|
پاکستان کے میگاسٹی شہر کراچی میں بعض شر پسند اور جرائم پیشہ عناصر محبت کی فضاء اور بھائی چارے کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیںسربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری
کراچی ( ) سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ پاکستان کے میگاسٹی شہر کراچی میں بعض شر پسند اور جرائم پیشہ عناصر محبت کی فضاء اور بھائی چارے کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور ملکی معیشت کی شہہ رگ کو کاٹ کر ملک کو اقتصادی طور پر غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت دہشتگروں کوآئینی طریقے سے کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام ہوچکی ہے سانحہ نشترپارک عیدمیلادالنبیؐ سے لیکر آج تک رونما ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار نہیں کیا جاسکا اور جو دہشتگرد گرفتار ہوئے ہیں انہیں سیاسی مصلحت کے تحت انکے انجام تک نہیں پہنچایا گیا یہ ہی وجہ ہے کہ دہشتگرد کراچی سمیت ملک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی آقاؤں کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کےلئے جب چاہیں دہشتگردی کا سانحہ رونما کردیتے ہیں جو پاکستان کے اداروں کیلئے ہی نہیں بلکہ جمہوری حکومت کےلئے بھی افسوسناک عمل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت پر شیرشا ہ اور پاک کالونی سے آئے ہوئے معززین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ نشترپارک عیدمیلادالنبیؐ میں سنی تحریک کی اعلیٰ قیادت سمیت 63علماء مشائخ کو شہید کردیا گیا مگر سانحہ نشتر پارک کے ماسڑ مائینڈ آج تک گرفتار نہیں ہوسکے اور جن افراد کو سانحہ نشتر پاک کے سانحہ میں گرفتار کیا گیا تھا وہ بھی بری ہو چکے ہیں جو کہ انتظامیہ اور ان اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے جو بلند بانگ دعوے کر رہے تھے کہ سانحہ نشتر پارک کے اصل دہشتگرد گرفتار ہو چکے آج و ہ بتائیں کہ کہاں ہیں سانحہ نشترپارک کے دہشتگرد اور انہیں کیوں سزائیں نہیں ہوئیں۔ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ مصلحت پسندی کو ترک کئے بغیر دہشتگری ختم کرنے کا تصور ایسا ہی ہے جیسے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہوں۔انہوں نے کہا سنی تحریک قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتی ورنہ 48گھنٹوں میں دہشتگردوں کو زمین کے اندر سے بھی نکال کر منظر عام پر لا سکتے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ 4سال کا عرصہ گذرجانے کے باوجود سانحہ نشترپارک عیدمیلاد النبی ؐ کے اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا صرف عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بلندوبانگ دعوئے کئے گئے جو کسی بھی طور جمہوریت کے منافی عمل ہے ثروت اعجاز قادری نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ سانحہ نشترپارک کی تحقیقات سپریم کورٹ کے3ججزپر مشتمل ٹربیونل سے کرائیں تاکہ اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے اور دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو بھی خاکستر کیا جاسکے
Date:
2/2/2010 12:00 AM
|