|
یہود ونصاری ٰملک کی اقتصادی معاشی بدحال صورتحال کو سنہری موقع جان کر پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنی فوجیں اتارنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ناپاک مقاصد کو پورا کرسکیں ۔سر براہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری
کراچی ۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے ۔ملک کی ترقی ،خوشحالی کےلئے امریکہ کے دباؤ یا ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ۔امریکہ نے کانگریس کمیٹی میں بلوچستان پر بحث کرکے اگلے ہدف کا اشارہ دے دیا ہے ۔امریکی حکام پاکستان سے مخلص نہیں وہ ہر صورت میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے نئے جال بُن رہے ہیں ۔امریکی سازشوں کا یکجہتی کے ساتھ ہی منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے ۔بد قسمتی سے پاکستان کے حکمران ہوش کے ناخن لینے کی بجائے جوڑ توڑ کی سیاست میں مصروف ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی کانگریس کمیٹی میں بلوچستان کی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہود ونصاری ٰملک کی اقتصادی معاشی بدحال صورتحال کو سنہری موقع جان کر پاکستان پر دباؤ بڑھا کر اپنی فوجیں اتارنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ناپاک مقاصد کو پورا کرسکیں ۔ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کے خاتمے کےلئے ہرممکن اقدام کرے۔تشدد کے واقعات ،ٹارگٹ کلنگ ،بم دھماکے ،مسخ شدہ لاشوںکی برآمدگی یہ سب کچھ امریکی عزائم کےلئے راہ ہموار کررہا ہے جسے روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کاکام ہے ۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کی بجائے بلوچستان کے عوام سے ڈائیلاگ اور سیاسی طریقے سے مسئلے کو حل کرنے کی جانب بڑھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سلامتی وخود مختاری کےلئے خطرہ اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے حکمران اور ملکی سلامتی کے ادارے امریکی دھمکیوںاور سازشوں کا نوٹس لیں ۔ملک کی 18کروڑ عوام ملک کی بقاء وسلامتی کےلئے یکجا ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ بیرونی پالیسیوں کو مسترد کرکے میڈ ان پاکستان پالیسیاں بنائیں اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہرممکن اقدامات کرے۔حکومت ملکی سلامتی و خودمختاری اور بیرونی پالیسیوں کے خلاف جو بھی مثبت قدم اٹھائے گی پاکستان سنی تحریک حکومت کا بھرپور ساتھ دیگی ۔انہوں نے بلوچستان کے ذمہ داران وکارکنان کو ہدایت کی کہ عوام میں سیاسی شعور اجاگر کریں اور امریکی وبیرونی سازشوں سے عوام کو آگاہ کریں
Date:
2/10/2012 12:00 AM
|