|
قومی سوچ و یکجہتی کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں اس وقت اتحا دو یگانگت اور آئین پر عمل کرنے کی ضرورت ہےسربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری
کراچی ( ) سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ قومی سوچ و یکجہتی کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں اس وقت اتحا دو یگانگت اور آئین پر عمل کرنے کی ضرورت ہے آئین پر ایسا عمل کہ ریاست کے تمام شعبے آئین میں فراہم کردہ حدود وقیود میں رہ کر اپنا اپنا کام کریں ان خیالات کا اظہار سربراہ سنی تحریک نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے 13وزارتوں کو دوسری وزارتوں میں ضم کرنے اور قومی خزانے کے اخراجات کو کم کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اربوں ڈالر قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے حکومت کو ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو قوم کی امنگوںکے مطابق ہو جس پر وہ فکر سے سر اٹھا کر زندگی گذار سکیں اس کےلئے ضروری ہے کہ خلفاء راشدین کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے سادگی کو اپنا ئیں اس کے لئے ضروری ہے صحابہ کرام کا طرز عمل پہلے خود اختیار کریں اور پھر قوم کو اس سنہری راستے پر چلنے کےلئے علماء کرام ،دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کریں انہوں نے کہا کہ سنی تحریک کا اول روز سے ہی یہ مطالبہ تھا کہ وزراء کی فوج کم کی جائے کیونکہ ایک طرف عوام ایک طرف تو دہشتگردی سے پریشان حال ہیں تو دوسری جانب مہنگائی،بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور رہی سہی کسر بحرانوں نے پوری کردی ہے جس کی وجہ سے غریب عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبوار ہو گئے ہیں ،انہون نے کہا کہ وزیراعظم کا تیرہ وزارتوں کو دوسری وزارتوں میں ضم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر فوری عمل در آمد کرکے عوام کو ریلیف دینے کے لئے نئی پالیسی وضع کی جائے ،انہوں نے کہا کہ ملک کی عوام بیرونی قرضوں کو اتارنے کا حوصلہ رکھتی ہے مگر اس کےلئے حکمرانوں کو عوام کےلئے انقلابی پیکیج دینا ہوگا الیکٹرک،گیس پیٹرول ودیگر مصنوعات پر جائز ٹیکس لگایا جائے جو عوام بھی بخوشی دیں گے اور ان ٹیکسوں کی ادائیگی کےلئے عوام میں شعور کے ساتھ حکمران اپنے اندر بھی ایسی تبدیلی لائیں جس سے عوام کو ترقی کی جانب بڑھنے کی اُمیدیں ہوں ،انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے حکمران اور عوام اپنے ملک کی گاڑیاں اور مصنوعات استعمال کرتے ہیں ہمیں بھی اپنے ملک کی چیزیں استعمال کرنا ہوگی اور یہ ہی ہماری قومی غیرت کا تقاضہ ہے
Date:
12/7/2009 12:00 AM
|